جاوید ہاشمی کے مقابلے میں این اے 149 سے پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کا ایک بھگوڑا کھڑا کیا ہے جس کانام ہےعامر ڈوگر۔ عامر ڈوگر کا اپنا ووٹ ہی 50 ہزار ہے باقی پی ٹی آئی کا 10 ایک ہزار ووٹ ملا لو تو اس کے 60 ہزار ووٹ ہو جائیں گے مزا تو تب آتا می ٹی آئی اپنا ایک نیا امیدوار میدان میں لاتی اور اس کے ذریعے یہ مارکہ لڑتی یہ تو پہلے ہی دھاندلی کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی اصلیت سوائے لوٹو ں کے کچھ نہیں ہے بدنام زمانہ کرپٹ مافیہ اس میں بھر چکی ہے جو اس وقت اس میں ضم ہونے کے بعد مکمل طور پر پاک صاف ہوچکی ہے۔ پی ٹی آئی سٹیٹس کو کے خلاف نعرہ لگاتی ہے جبکہ دوسری طرف اسی سٹیٹس کے ذیرعے الیکشن بھی لڑتی ہے۔ عمران خان کو پتہ ہے اگر اس نے یہاں سے عامر ڈوگر کی بجائے کسی نئے شخص کو ٹکٹ دیا تو وہ تین ہزار ووٹ بھی نہیں لے گا۔ اس لئے اس اس علاقے سے جیتنے کے لئے عامر ڈوگر کی حمایت کرنی پڑی۔ عامر ڈوگر کیا ہے اور اس کی اصلیت کیا ہے اس پر تو پھر بات ہوگی مگر ایک بات طے ہے کہ جاوید ہاشمی کے لئے عامر ڈوگر سے جیتنا ایک چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ جاوید ہاشمی اس وقت اکیلا ہے اس کے ساتھ کسی بھی پارٹی کی کوئی سپورٹ حاصل نہیں ہے نون لیگ نے باغی کو آفر کی مگر باغی نے ٹھکرا دی باغی یہ الیکشن اپنے بل بوتے پر لڑ رہا ہے
باغی اکیلا ہے اور دوسری طرف عامر ڈوگر بدنام زمانہ سمگلر پلس پی ٹی آئی ہے ۔
اب امتحان ہماری عووام کا ہے کیا وہ ابھی تک خاندانی بنیاد پر ہی ووٹ دیتی ہے یا پھر اس میں واقعی شعور آیا ہے اگر تو شعور آگیا تو وہ کرپٹ سٹیٹس کو عامر ڈوگر کو مسترد کردے گی اور اگر پرانی ہی زہنیت ہے تو عامر ڈوگر کو جتوا دے گی










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔