ملک میں ہر سال ٹنوں کے حساب سے اسلام کے خلاف مواد شائع اور نشر ہوتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کا بڑا حصہ ہماری اخلاقی اقدار کو پامال کر رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ ہماری تہذیب و ثقافت کو برباد کررہے ہیں۔ ہمارے یہاں ایسا مواد شائع ہوتا رہتا ہے جو قیام پاکستان کے جواز کو چیلنج کرتا ہے۔
پاکستان میں مصور ِپاکستان اقبال اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح پر آئے دن حملے ہوتے رہتے ہیں، لیکن ہمارے جرنیلوں اور خفیہ اداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی،
لیکن جیو سے حامد میر کے واقعے میں آئی ایس آئی کے سربراہ پر چند گھنٹے حملے کیے گئے تو وزارتِ دفاع فریق بن کر کھڑی ہوگئی ہے اور کہا جارہا ہے کہ جیو کو بند کردینا چاہیے۔
بلاشبہ آئی ایس آئی کے سربراہ پر الزام تراشی کرتے ہوئے کسی صحافتی اصول اور قدر کی پاسداری نہیں کی گئی، لیکن کیا ہمارے مذہب، ہماری تہذیب، ہماری تاریخ، ہماری اخلاقی اقدار اور ہمارے قومی ہیروز پر کسی جواز کے ساتھ حملے کیے جاتے ہیں؟
اس صورت حال کا مفہوم عیاں ہے۔ ہمارے ریاستی اداروں کے نزدیک ذرائع ابلاغ صرف اُس وقت غیر ذمہ دار ہوتے ہیں جب وہ جرنیلوں یا ملک کے خفیہ اداروں کے سربراہوں پر غلط یا صحیح الزام لگائیں۔ اس لیے کہ ہمارے جرنیل اور ہمارے خفیہ ادارے ہمارا قومی مفاد اور ہمارے قومی مفاد کے نگران ہیں۔
رہا ہمارا مذہب، ہماری اخلاقیات، ہماری تہذیب، ہماری تاریخ اور ہمارے حقیقی محسنوں کا معاملہ… تو ان کی پامالی کوئی خاص بات نہیں۔
اس صورتِ حال میں اس مطالبے کا سامنے آنا فطری ہے کہ ملک کے خفیہ اداروں کو قانون اور ضابطے کے دائرے میں لایا جائے اور قومی مفاد کے مخصوص ٹھیکے داروں سے قوم کو نجات دلائی جائے۔
Full article: http://fridayspecial.com.pk/










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔