اس ملک میں غریب، اسلام، جمہوریت، انصاف، انقلاب، تبدیلی، پتہ نہیں کیسے دل خوش کن نعروں سے لوگوں کو بہلایا گیا-اور اس کار خیر میں کتنوں کو خون میں بھی نہلایا گیا--پر غریب، اسلام، جمہوریت، انقلاب، تبدیلی وغیرہ سب کے سب کا حال ماضی بنتا جارہا ہے کسی کا مستقبل بنتا نظر نہیں آرہا----اسی طرح کا ایک اور مظلوم لفظ "مہاجر" بھی ہے- اس لفظ کو ہجرت رسول (ص) کے ساتھ نسبت باندھ کر پہلے تو تقدس کے جزداں سے مزیں کیا گیا اور پھر بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں سے اس پر گل پاشی کی گئی-- اس پر مستزاد یہ کہ اگر لفظ "مہاجر" کو بغیر وضو کو استعمال کیا تو نہ جاۓ ماندن و نہ پاۓ رفتن---کوئی ان مقدس گائیوں سے پوچھ بھی نہیں سکتا کہ رسول مہربان (ص) نے ہجرت کرکے فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی تھی، دین کا بول بالا کیا تھا، سراپا رحمت اور اخوت کا نظام قائم کیا تھا----تم نے کیا کیا؟؟---- "ہجرت" کرکے اقتدار حاصل کیا تو علماء کا قتل شروع کیا،--- مسلمان سیاسی مخالفین کو چن چن کر قتل کیا،---- ٹارچر سیل قائم کیۓ،---- بھتے وصول کرتے رہے،---- قومی وحدت و سالمیت کو نقصان پہنچایا،---- فساد پھیلایا----ایسے کرتوت کرنے والے سیہ کار زیادہ سے زیادہ پناہ گزین کہلاۓ جاسکتے ہیں ، مہاجر کہلانے کے مستحق ہوہی نہیں سکتے- !
by Karam Elahi
by Karam Elahi










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔