انہیں اسلام کے نام سے بہت الرجی ہے، مولویوں کا مذاق اڑانا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ جہاں اسلام کا نام سنتے ہیں انہیں فورا برقع اور داڑھی یاد آجاتی ہے۔ آج کل ہی دیکھ لیں، طالبان شریعت کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں فورا یہ خیال آجاتا ہے کہ اگر شریعت آگئی تو خواتین کو برقع پہننا پڑے گا اور مردوں کو داڑھی رکھنا پڑے گی۔چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے، قاتل کے سر قلم کردئیے جائیں گے۔ یہ لوگ اسلام کو داڑھی، برقع تک سمجھتے ہیں ۔
یہ اختلاف رائے برداشت نہیں کرتے، ان کی بات سے اختلاف کریں گے تو یہ پہلے عجیب وغریب دلائل کا سہارا لیں گے لیکن بات نہ بننے پر یہ آپکے گلے پڑجائیں گے۔ اگر آپ کی داڑھی ہے تو یہ آپکو مذہبی انتہا پسند یا طالبان کا حمایتی بھی کہہ دیں گے۔
اگر دھماکہ کسی مسجد میں ہو یا پبلک مقام پر ہو تو انہیں کچھ خاص افسوس نہیں ہوتا، یہ تھوڑی بہت مذمت کرکے اپنا فرض پورا کردیتے ہیں ۔ لیکن اگر بم دھماکہ کسی چرچ ، مندر میں ہو تو یہ آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ چیخ چیخ کر واشنگٹن ڈی سی کے درودیوار ہلادیں اور اس وقت تک چپ نہیں کرتے جب تک ان کا احتجاج امریکی کانوں میں نہ پڑجائے۔ انہیں اچانک یاد آجاتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔ کسی ہندو پر ظلم ہو، کسی مسیحی پر تشدد ہوان کا اس وقت یہی رونا ہوتا ہے کہ پاکستا ن میں اقلتیں محفوظ نہیں ہیں اور یہ کسی کونے کھدرے سے قائداعظم کی 11اگست کی تقریر لے آتے ہیں اور اسے سنانا شروع کردیتے ہیں۔
اگرچہ فیض احمد فیض بھی شاعری میں بہت بڑا نا م ہے لیکن ان کا علامہ اقبال سے کوئی مقابلہ نہیں۔یہ لوگ فیض احمد فیض کو علامہ اقبال سے بڑا شاعر سمجھتے ہیں اور فیض احمد فیض کو علامہ اقبال کے مقابلے میں پروموٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ آپ کو کسی موقع و محل کی مناسبت سے ہر شاعر کا شعر سنادیں گے لیکن علامہ اقبال کا شعر کبھی نہیں سنائیں گے۔ یہ بعض اوقات علامہ اقبال کو بھی معاف نہیں کرتے اور انہیں بھی تنقید
کا نشانہ بنادیتے ہیں۔ یہ فیض احمد فیض پر ادبی کانفرنسیں کریں گے، ان کی برسی اور یوم پیدائش منائیں گے لیکن علامہ اقبال کی باری میں خاموش رہیں گے۔
ان کا پسندیدہ مشغلہ اس پر بحث کرنا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا یا نہیں۔ یہ دوقومی نظریہ کو یکسر مسترد کریںگے۔ پاکستان کو سیکولر ریاست ثابت کرنے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگادیں گے۔ قرارداد مقاصد کی نفی کریں گے۔ یہ پاکستان کی تشکیل کو قائداعظم کی 11اگست کی تقریر سے جوڑیں گے کہ یہ دیکھو قائداعظم نے سیکولر ریاست بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن اگر کوئی قائداعظم کے اسلامی ریاست کے بارے میں اقوال کا حوالہ دے گا تو اسے مسترد کرنے کیلئے کچھ نیا پیش کردیں گے۔ پاکستان کو سیکولر ریاست ثابت کرنے کیلئے یہ یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ قائداعظم کی رتی جناح سے شادی کا حوالہ دینا شروع کردیتے ہیں کہ دیکھو قائداعظم نے ایک پارسی عورت سے شادی کی تھی۔ اب تو اینکرز نے بھی وطیرہ بنالیا ہے جہاں ان لبرل فاشسٹ کو بلاتے ہیں وہاں ایک مولوی صاحب کو بھی بلالیتے ہیں پھر پروگرام سپرہٹ۔۔۔
دہشتگردوں کے بارے میں بھی ان کا موقف بھی عجیب ہے۔ بلوچستان میں دہشتگرد حملے کریں تو وہ ناراض بلوچ ہیں، خیبرپختونخوا میں دہشتگرد حملے کریں تو وہ حقیقی دہشتگرد ہیں۔ یہ لوگ طالبان کے خلاف آپریشن کے حامی ہیں لیکن بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی جیسی تنظیموں پر یہ خاموش رہتے ہیں۔ ڈرون حملوں کے یہ حامی ہیں اورقوم کو ڈرون حملوں کے فوائد سے وقتا فوقتا آگاہ کرتے رہتے ہیں ۔ مذاکرات کے یہ مخالف ہیں اور اگر مذاکرات کی بات چلے تو مذاکرات سبوتاژ کرنے کیلئے ہرممکن حربہ استعمال کرتے ہیں۔ اگر مذاکرات کے دوران کہیں دہشتگردی کی کوئی واردات ہوجائے تو یہ افسوس کرنے کی بجائے سیدھا یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ اور کرو مذاکرات۔۔ پھر یہ دہشتگردی کی کاروائیوں کو طالبان سے جوڑنے کی کوشش میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
یہ ہر اس شخص کو تبرا بھیجتے ہیں جو مذاکرات کا حامی ہو۔ یہ ٹوئٹرپر اپنے ہی لبرل فاشسٹ ساتھیوں کے آرٹیکل شئیر کرتے ہوئے امیزنگ پیس، نائس پیس اور اس طرح کے دوسرے الفاظ لکھ کر شئیر کرتے ہیں لیکن کوئی دوسرا اوپن کرتے تو انہیں ان کے ایک ہی قسم کے رٹے رٹائے جملے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ان کی صحافت زیادہ تر انگریزی تک محدود ہے۔اس لئے کسی ملازم کو ان کا کالم ترجمہ کرکے پیش کرنا پڑتا ہے اور وہ ان کے کالموں کا ترجمہ بھی ایسی مشکل اردو میں کرتا ہے کہ پڑھنے کو دل نہیں کرتا۔
یہ لوگ سوشل ورک بھی کرتے ہیں لیکن ان کا سوشل ورک سیمینار، کانفرنسوں، ٹی وی ٹاک شوز اور باتوں تک ہی محدود رہتا ہے۔ کانفرنسوں کے دوران اپنے میک اپ، بالوں اور لباس کا جائزہ لیتی رہتی ہیں۔ ان میں آج تک کوئی عبدالستار ایدھی، عمران خان، سیلانی، نعمت اللہ خان، چھیپا، ڈاکٹر امجد ثاقب پیدا نہیں ہوا۔ انہیں فنڈز کوئی ریڑھی بان، مزدوریا غریب نہیں دیتا بلکہ ان کو فنڈز باہر سے ہی ملتے ہیں۔ پاکستان میں آئے دن زیادتی کی وارداتیں ہوتی ہیں لیکن اگر کسی واردات پر امریکہ یا یورپ نوٹس لے لے تو یہ بھی گلا پھاڑنا شروع کردیتے ہیں اور پھر اس واردات پر ڈاکومنٹریزی بنابناکر مختلف کانفرنسیں بلاتے ہیں اور اپنا ویژن پیش کرتے ہیں اور پھر غیر ملکی فنڈز لیکر خاموش ہوجاتے ہیں۔
ان کی این جی اوز کا کام مسائل حل کرنا نہیں مسائل اجاگر کرنا ہیں جیسے یہ امریکہ اور یورپ کو بتاتے ہیں کہ پاکستان میں چائلڈلیبر ہورہی ہے، بچیوں کی چھوٹی عمر میں شادی کردی جاتی ہے، پاکستان میں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، یہ پاکستان کے غریب ہیں اور ان کی حالت یہ ہے ۔ اسی بناءپر یہ لوگ فنڈز لیتے ہیں اور پھرپتہ نہیں فنڈز کہاں جاتے ہیں۔ایک پاکستانی خاتون مسرت مصباح نے ایک این جی اوز شروع کی کہ پاکستان میں خواتین پر تیزاب پھینکا جارہا ہے تو یورپ کے کچھ ممالک نے اسے فنڈز دئیے اور اس سے اس نے تیزاب سے متاثرہ خواتین کا علاج تو نہیں کیا لیکن کئی بیوٹی پارلرز بنالئے۔
اگرچہ اسلام سے انہیں الرجی ہے لیکن یہ اسلام کو اپنی مرضی کے مطابق بھی استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مثال کے طور پر ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں پاکستانیوں کو قتل کیا، اسے حکومت نے دیت اور قصاص لیکر چھوڑدیا تو اس پر ہمارے لبرل فاشسٹ بھائیوں نے دلیل پیش کی کہ اسلام تو دیت اور قصاص کی اجازت دیتا ہے، اسی لئے ریمنڈ ڈیوس کا جانا بالکل جائز ہے۔ یہ لوگ ہر اس جماعت کے حامی ہیں جو ان جیسے خیالات رکھتی ہے، بے شک اس نے 50سالوں میں عوام کیلئے کچھ نہ کیا ہو اور عوام کو غربت اور افلاس کے ہاتھوں ماردیاہو۔
یہ لوگ ایک مخصوص مذہبی فرقے کو سپورٹ کرتے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی فرقے سے ہو۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بجائے ڈاکٹر عبدالسلام کو مانتے ہیں۔ ملالہ آج کل ان کی ہیرو ہے ، اس کے خیالات سے یہ متاثر ہیں اور یہ اس کا دفاع کرنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں۔ میڈیا پر ان کا بہت اثرورسوخ ہے اور یہ میڈیا پر سینئر تجزیہ کار، سماجی ورکر جیسے القاب سے جلوہ گر ہوتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن عوام ہے کہ بجائے ان سے متاثر ہونے کا ان کا مذاق اڑانا شروع کردیتی ہے۔











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔