Thursday, November 13, 2014

ایڈیسن 'رضی اللہ عنہ' اور پاکستانی صحافت کا ابو جہل

0 comments


حضرت مولانا علامہ مفتی اعظم جناب حسن نثار مدظلہ عالی نے بجلی کے موجد تھامس ایڈیسن کو 'رضی اللہ عنہ' قرار دے ڈالا اور فتوی جاری کیا کہ چونکہ ہمیں بتی جلاتے وقت ایڈیسن کا خیال نہیں آتا اور ہم اس کو خراج عقیدت پیش نیہں کرتے اس لیے قدرت نے ہم پر تھوک دیا، دھتکار دیا اور یہی وجہ ہے کہ ہم میں ایڈیسن پیدا ہی نہیں ہوتے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ "حضرت" کو ایڈیسن کا تو بہت خیال آیا لیکن میں نے موصوف کو کبھی اس بات پر بھاشن دیتے نہیں دیکھا کہ جب کبھی ہمیں اپنے مسلماں ہونے کا خیال آئے تو کیا کبھی ہمارا خیال اس ہستی(ص) کی طرف بھی گیا جس کی بدولت ہم سب آج مسلماں ہیں؟ اس ہستی کو بھی چھوڑیے، کیا کبھی آنکھوں، کانوں، ہاتھ، پاؤں، ناک، منہ اور دانتوں جیسی نعمتوں کا استعمال کرتے ہیں تو کیا ایک لمحے کے لیے بھی اس مالک کا خیال ہمیں آتا ہے جس کی دی گئی ان ساری نعمتوں کو ہم for granted سمجھ کر استعمال کرتے ہیں؟؟ جب کبھی ہمیں اللہ اور آقا کریم (ص) کا خیال نیہں آتا تو ایڈیسن کا خیال نہ آنے پر ماتھے پہ اتنے بل کیوں؟؟ اہڈیسن ہم میں اس لیے پیدا نیہں ہوتا کیونکہ ہم نے قرآن کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے جو ہمیں غور کرنے' فکر کرنے، تحقیق کرنے، جستجو کرنے اور کائنات کو تسخیر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ بتی جلاتے وقت ہمیں ایڈیسن کا خیال نیہں آتا۔ قرآن نے صحابہ کرام کی منتخب جماعت کو "رضی اللہ عنھم" کا سرٹیفکیٹ دیا ہے۔ صحابہ کے بعد بھی اس امت میں جلیل القدر ہستیاں گزری ہیں جن میں بڑے بڑے آئمہ، مجدد، مجتہد،مفسر،محدث،مجاہد،عالم اور صوفی بزرگ گزرے ہیں کہ جن کی دعوت پر خطوں کے خطے مسلمان ہوئے لیکن کسی کی جرات نیہں ہوئی کہ ان ہستیوں کے ناموں کے ساتھ 'رضی اللہ عنہ' لکھے یا بولے' ہمیشہ ان سب کو 'رحمہ اللہ' ہی لکھا اور بولا گیا کیونکہ اللہ کی رضا کا واضح اعلان صرف صحابہ کی جماعت کے لیے ہے۔ لیکں کیا کیجئے کہ جب ایڈیسن ' رضی اللہ عنہ' لگنے لگے تو پھر اقبال جیسے عظیم شاعر اور فلسفی بھی "لوکل" قسم کے شاعر اور مشاہیر نظر آنے لگتے ہیں جن کو ہم نے خواہ مخوا سر پہ چڑھا رکھا ہے۔ ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر اقبال نہ ہوتا تو پھر قائد اعظم بھئ نہ ہوتے کہ وہ تو ناامید ہو کر لندں جا کر باقی کی زندگی وہیں گزارنے کا فیصلہ کر چکے تھے لیکن اقبال کے اصرار پر واپس چلے آئے اور اگر قائداعظم نہ ہوتے تو شاید یہ پاکستان بھی نہ ہوتا جس کی وجہ سے عزت، شہرت اور دولت سب کچھ پانے کے بعد بھی زبانیں اس کے خلاف زہر اگلتی ہیں۔ حسن نثار بنیادی طور پر مایوسی کا نام ہے اور آج یہ بات کھل کر سمجھ میں آئی ہے کہ مایوسی کو کفر کیوں کہا گیا ہے کیونکہ مایوسی مین انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں اور پھر وہ حسن نثار کی طرح ہذہان بکنے لگتا ہے۔ اللہ مایوسی سے ہر ایک کو اپنی پناہ میں رکھے۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓ--------------------------------------------------------------------
از قلم محمد ہارون الرشید

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔