امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق کی جانب سے کورٹ ردھا کشن میں
زندہ جلائے جانے والے جوڑے کے لواحقین سے اظہار ہمدردی قابل تحسین عمل ہے۔ یقینا
ظلم کی مذمت اور مظلوم کی حمایت ہر صورت میں ہونی چاہیے۔ اس میں رنگ، نسل، مذہب یا
کسی اور طرح کی قدغن رکھنا انسانیت سے فروتر عمل ہے۔
جماعت اسلامی کے آفیشل پیج پر آنے والی رپورٹ کے مطابق سراج الحق
صاحب نے اس موقعہ پر واقعہ کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف دو انسانوں
نہیں بلکہ پوری انسانیت ، تہذیب اور اقدار کا قتل ہے جس سے پاکستان کی عالمی
برادری میں بدنامی ہوئی۔
میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہاں سراج صاحب کا اشارہ کون سی عالمی برادری کی طرف ہے؟؟؟ وہ عالمی برادری جس کی نظر میں اسرائیل لاکھوں فلسطینیوں کا
قتل کرنے کے باوجود نیک نام ہے؟؟ ہندوستان لاکھوں کشمیریوں، امریکہ افغانیوں اور
عراقیوں کے قتل عام کے باوجود نیک نامی اور انسانیت کی معراج پر ہے؟؟ وہی عالمی
برادری جسکے کانوں پر شرق و غرب میں بہتے خون مسلم کے باوجود جون تک نہیں رینگتی۔
لیکن دنیا کے کسی کونے میں کسی چرچ کی دیوار کو نقصان پہنچ جائے یا کسی غیر مسلم
کو خراش آجائے تو تڑپ اٹھتی ہے؟؟
اگر امیر جماعت کا شارہ اسی عالمی برادری کی طرف ہے تو نہایت غلط
بات ہے۔ جناب والا اس عالمی برادری میں پاکستان کو نیک نام کرنے کا ٹھیکہ تو جناب
سید پرویز مشرف نے اٹھایا تھا۔ وہ وطن عزیز کی نظریاتی شناخت کو بدلنے کے باوجود
اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ یہاں نیک نامی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم
اسلام کی تعلیمات کو ہی ترک کر کے اسے ایک نمائشی مذہب بنا دیں۔ جیسا کہ عیسائیوں
نے خود کو بنا کر اپنے لئے نیک نامی خرید لی ہے۔
یہ بات تو پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ سراج الحق صاحب کی
فرمانے کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہو سکتا۔ لیکن کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دینی تحریکوں
کے قائدین کو الفاظ کے استعمال میں بہت محتاط ہونا چاہیے۔ دوسرے کسی واقعے پر اظہار
خیال کرتے ہوئے اُس کے تمام پہلوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ پاکستان میں توہین مذہب
کے قانون کے مجرموں کو جس انداز سے ماضی میں بچایا گیا ہے۔ وہ بھی ایسے کسی واقعے
کی غیر معقول ہی سہی لیکن ایک وجہ ضرور ہو سکتی ہے۔ دوسرا یہ بات ابھی تک تحقیق
طلب ہے کہ کیا واقعی توہین قران کا واقعہ ہوا تھا یا نہیں؟ ظلم کی مذمت کی آڑ میں
مجرم کو بے گناہ بنا کر پیش کرنے اور توہین مذہب کے قانون کو ہدف تنقید بانے کی
اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔
آخری گزارش یہ کہ ہم ظلم کی مذمت کسی نام نہاد عالمی برادری میں
نیک نامی کے حصول کی خاطر نہیں کر رہے۔ بلکہ اس لئے کر رہے ہیں کہ یہ ہمارے آقا ﷺ کی سنت ہے۔ آپﷺ نے دور جہالیت میں عبدللہ
بن جدعان کے گھر میں منعقد ہونے والے ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت کے مشہور
معاہدے حلف الفضول میں شرکت فرمائی تھی۔ اور زمانۂ رسالت میں اس کا تذکرہ کرتے
ہوئے فخریہ فرمایا تھا کہ اس معاہدے کے بدلے مجھے سرخ رنگ کے اونٹ بھی دیے جاتے تو
میں نہ لیتا اور اگر اب بھی ایسے کسی معاہدے کے لئے بلایا جائے تو میں اسے قبول
کروں گا۔
بشکریہ مہتاب
عزیز












0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔