تحریک انصاف کے اندر کی دھڑے بن چکے ہیں جن میں شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک کا دھڑا سب سے زیادہ طاقتور ہے- دھرنے کے دوران جب عمران خان نے استفوں کا اعلان کیا تھا تو ان دونوں دھڑوں نے کھل کر مخالفت کی تھی-تاہم عمران خان کو شیخ رشید کے زریعے جو یقین دہانی کروائی گئی تھی اس کے مطابق استفے "سکرپٹ" کا لازمی حصہ تھے- عمران خان پرویز خٹک کو تو نہ منا سکے البتہ دیگر اراکین قومی و صوبائی کو اپنے حکم سے مجبور کیا کہ وہ استفے دے دیں- اگرچہ ان میں سے بھی اکثر بے دلی سے ایسا کررہےہیں باقی دھرنے کے واقعات تاریخ کا حصہ ہی۔
تحریک انصاف کے اندر کی دھڑے بن
چکے ہیں جن میں شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک کا دھڑا سب سے زیادہ طاقتور ہے
اب جبکہ عمران خان نومبر کے آخر میں حکومت پر ایک اور وار کرنے کی تیاریوں میں ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ یا تو خیبر پختون خواہ میں استفے دئے جائیں یا پھر اسمبلی ہی ٹوٹ جائے تا کہ موجودہ جمہوری سیٹ اپ اپنی وقعت کھو دے- لیکن مسلہ پھر وہی پرویز خٹک... جو کسی صورت مان ہی نہیں رہا- اب اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کو کسی طرح حکومت سے باہر کر دیا جائے تو پرویز خٹک کی حکومت خود ہی گر جائے گی- اپوزیشن میں تو وہ بیٹھے گا نہیں لہذا استفے دینے ہی پڑیں گے
عمران خان اور اسد عمر کے بیانات کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو صورت حال سمجھ آ جائے گی-
دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی اب بھی جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کسی بھی صورت میں اتحاد توڑنے یا استفوں کے موڈ میں نہیں۔
اب جبکہ عمران خان نومبر کے آخر میں حکومت پر ایک اور وار کرنے کی تیاریوں میں ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ یا تو خیبر پختون خواہ میں استفے دئے جائیں یا پھر اسمبلی ہی ٹوٹ جائے تا کہ موجودہ جمہوری سیٹ اپ اپنی وقعت کھو دے- لیکن مسلہ پھر وہی پرویز خٹک... جو کسی صورت مان ہی نہیں رہا- اب اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کو کسی طرح حکومت سے باہر کر دیا جائے تو پرویز خٹک کی حکومت خود ہی گر جائے گی- اپوزیشن میں تو وہ بیٹھے گا نہیں لہذا استفے دینے ہی پڑیں گے
عمران خان اور اسد عمر کے بیانات کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو صورت حال سمجھ آ جائے گی-
دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی اب بھی جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کسی بھی صورت میں اتحاد توڑنے یا استفوں کے موڈ میں نہیں۔










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔