Thursday, November 13, 2014

کتابوں کا ذوق و شوق زوال پذیر کیوں؟

0 comments

حرفوں کے رسیا کیا ہوئے
کتابوں کا ذوق و شوق زوال پذیر کیوں؟

محمد ارشد سلیم
برنس روڈ (کراچی )پر تقریباً ہر عمر اور رنگ و نسل کے لوگوں کا ہجوم تھا۔۔ چھوٹے بڑے اور امیر غریب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق انواع و اقسام کے مشروبات‘مختلف کھانوں اور طرح طرح کے کباب سے فیضیاب ہو رہے تھے۔ فیض،اقبال،غالب اور میر برنس روڈ سے ذرا آگے ریگل چوک کے فٹ پاتھوں پہ پکارتے پھر رہے تھے:
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
کباب کے یہ اسیر کتاب سے کوسوں دور تھے۔۔۔”بانگ درا“ کوئی نہیں سن پا رہا تھا۔۔۔”ضرب کلیم“ کا کسی پہ اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ اور”نسخہ ہائے وفا“ سے عہد وفا باندھنے کا بھی ان میں کوئی آرزو مندنہ تھا۔ہر اتوار صبح سے شام تک ریگل اور فریئر ہال کے فٹ پاتھوں اور اسٹالز پر فلسفہ،تاریخ عالم، سیاسیات ، سماجیات ، نفسیات اورمذاہب عالم پر موجودہ اور عہد رفتہ کی مقبول ترین کتابیں صدائیاں دیتی ہیں :
آواز دے کہاں ہے۔۔۔؟

ہومر،ورجل ،کالی داس، رحمان بابا، سچل سرمست، وارث شاہ، شیکسپیئر ،گوئٹے، ٹالسٹائی، چیخوف ،گورکی، موپاساں،سارتر ،کرشن چندر ، سعادت حسن منٹو اور ہزارہا کہانی کار،شاعر، دانشور اور فلسفی تو گویا اقبال بانو کے سنگ غزل سراہیں:
دل توڑنے والے دیکھ کے چل
ہم بھی تو پڑے ہی راہوں میں
فٹ پاتھوں اور اسٹالز کی زینت بننے والی پرانی خستہ وبوسیدہ اور ردی کی صورت میں فروخت شدہ کتابیں ہوں یا نئی اور دیدہ زیب کتابیں۔۔ہماری ان سے دوری بڑھتی جا رہی ہے، حالانکہ تاریخ شاہد ہے کہ وحشی ادوار کو نکال کر دنیا پر ہمیشہ کتابوں نے حکمرانی کی ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم وحشی دور میں جی رہے ہیں۔۔؟ یا صرف پاکستانی اور تیسری دنیا کے چند دیگر ممالک کا معاشرہ دور وحشت میں قدم رکھ چکا ہے۔۔؟

عالمی شہر ت یافتہ امریکی ادیب مارک ٹوئن نے شاید ہمارے لئے کہا ہے کہ ”جو شخص اچھی کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتا وہ ایسے شخص سے بدتر ہے جو پڑھنا نہیں جانتا“چھوٹی بڑی عوامی لائبریریاں کیوںاجڑی اجڑی نظر آتی ہیں؟اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں ویرانی کے سائے کیوں گہرے ہوتے جا رہے ہیں؟
معاشرے کا علم دوست طبقہ، حساس طبع افراد، ادب کا ذوق رکھنے والے قارئین، قلم کار اور دانش ور کتاب کلچر کے عدم وجود کا رونا رورہے ہیں، جبکہ پورے سماج کی کتاب سے کنارہ کشی اور نئی نسل کی کتاب سے دوری کی شکایت بہت عام ہو چکی ہے ، اگر حقیقتاً ایسا ہی ہے تو پھر یہ جاننا از حد ضروری ہے کہ کتابوں کا ذوق و شوق زوال پذیر کیوں ہے؟
ممتاز نقاد وشاعر پروفیسر سحر انصاری ،کتابوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو اس کا ایک سبب گردانتے ہوئے ناشرین کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھراتے ہیں، انہوں نے موضوع پر مزید روشنی ڈالٹے ہوئے کہا:”مہنگی کتابوں نے قارئین کی تعداد گھٹا دی ہے، ادیب کو بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا‘ادیب غریب تر اور ناشر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ کتابوں کے ذوق میں کمی کے اور بھی بہت سارے اسباب ہیں، مثال کے طور پر ہمارا تعلیمی نظام اور اساتذہ،گھریلو اور خاندانی ماحول‘جس میں کتاب کو سب سے کم اہمیت دی جاتی ہے، لوگ ہزار کا برگر اور پانچ ہزار کا جوگر خرید لیتے ہیں مگر کتاب نہیں خریدتے، کیفے کلچر کا خاتمہ بھی اس کا ایک اہم سبب ہے

پاکستان کی ادبی تاریخ میں بلاشبہ ٹی ہا
سز اور کیفے کلچر کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، جس نے نہ صرف ادیبوں کے درمیان باہمی روابط اور نئے ادیبوں کی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ، بلکہ کتاب دوست اور ادب ذوق قارئین کی تعداد میں بھی اضافہ کیا تھا۔معروف ترقی پسنددانشور راحت سعید نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
کتاب کلچر جو پہلے نظر آتا تھا وہ اب نہیں رہا مگر بہت زیادہ مایوس کن صورتحال بھی نہیں ہے، کتابوں کا ذوق و شوق لوگوں میں اب بھی ہے لیکن ہوا یہ ہے کہ تفریح اوقر معلومات کے دوسرے میڈیم بھی آگے ہیں‘ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کتب بینی کا ذوق و شوق اسکول کی سطح پر پروان نہیں چڑھایا جاتا، اگر ہم اپنے گھروں میں کتب بینی کا شوق، بچوں میں پروان چڑھاتے تو شاید پھر ایسی صورتحال نہ ہوتی۔ لوگوں کو کتاب اور ادب کی طرف راغب کرنے کےلئے ہمارے ہاں ایسا ادب تخیلق ہونا چاہئے جو عوام کی خواہشوں اورا میدوں کا مرکز بھی ہو اور مظہر بھی

اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ادیبوں نے خود بھی وقتاً فوقتاً اپنے قائرین سے رشتہ توڑا ہے، کبھی ادب برائے ادب کے نام پر تو کبھی مخالفت برائے مخالفت کی ترنگ میں انداز و بیان اور اسلوب کے نت نئے تجربات کی صورت میں۔

ملک کے معروف پبلشر آصف حسن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا:”کتاب کلچر کا زوال دراصل خیالات و نظریات کا زوال ہے اور کتاب کلچر تو ہم خود ہی ختم کر رہے ہیں، اخبارات اور میگزین میں کتابوں پر تبصرہ کےلئے مخصوص تھوڑی سی جگہ بھی اشتہار ملنے کی صورت میں غائب کر دی جاتی ہے، ٹیلی وژن چینلز پر دنیا جہاں کے موضوعات پر بحث و مباحثے ہوتے ہیںِ، سیاستدانوں کے جھوٹے سچے بیانات زور و شور سے دہرائے جاتے ہیں لیکن کتابوں پر بحث و مباحثہ تو دور کی بات دو جملے بھی بولے نہیں جاتے“۔انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا : ”کتابوں کا مہنگا ہونا لائبریریوں کی کمی کا رونا ،روناکتاب نہ پڑھنے کے بہانے ہیں، ذاتی طور پر کتابوں کا ذوق و شوق ہی مجھے اس پیشے کی طرف لے کر آیا ہے ، ہمارے ادارے نے ڈسکا
نٹ لینا سکھایا خود بھی ڈسکانٹ دیتے ہیں اور د کانداروں کو بھی ہماری تاکید ہوتی ہے کہ ہماری کتابیں حتی الوسع رعائتی قیمت پر دی جائیں“۔

کتابوں کی قیمتوں،چھپائی کے معیار اور نئے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی نہ کرنے کے حوالے سے پبلشرز بھی شکایات اور تنقید کی زدمیں ہیں، پبلشر کاغذ کی خریداری سے لے کر کتاب کی چھپائی کے تمام مراحل تک ہر جگہ خوشی سے پیسے دیتے ہیں لیکن جو خون دل دے کر الفاظ و خیالات کی نئی دنیائیں تخلیق کرتے ہیں انہی کو معمولی سی رقم دینے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔

بنیادی طور پر ہمارا معاشرہ علم دشمن معاشرہ ہے۔۔!“ اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے ڈاکٹر توصیف احمد خان اپنے تاثرات و حساسات بیان کر رہے تھے:”اس علم دشمنی کے نتیجے میں لکھنے پڑھنے کا رحجان کم ہو رہا ہے ، غربت بھی کتاب دوستی کے راستے میںرکاوٹ ہے، کتابیں مہنگی ہیں، ایک وجہ ہماری نئی نسل کا برگر ایجوکیشن کی طرف جانا ہے، اساتذہ بھی اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا نہیں کر تے ہیں، ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں تحفے تحائف دینے کا رحجان نہایت کم ہے اگرچہ مذہب میں اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور پھر خاص طور پر تحفے میں کتاب دینے کا رحجان تو بالکل ہی نہیں ہے“۔

اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے طالب علم عاصم عزیز بنیادی طور پر گلگت سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے اس حوالے سے بتایا:”مجھے گلگت میں یہاں کی نسبت کتابوں کا شوق زیادہ تھا اور پڑھنے کا موقع بھی کچھ زیادہ ہی ملتا تھا مگر ’گردش وقت سے حالات بدل جاتے ہیں‘ کے مصداق اب وقت کی کمی آڑے رہتی ہے اسلئے کورس کی کتابوں میں سے بھی اکثر پڑھ نہیں پاتا، جس کی وجہ سے نوٹس کا سہارا لیتا ہوں اور یا پھر انٹرنیٹ پر مطلوبہ موضوعات Serchکر لیتا ہوں“۔طالب علموں کی تن آسانی، شارٹ کٹ کی تلاش اور صرف امتحان میں کامیابی کے نقطہ نظر سے ”پڑھنا“ عاصم عزیز جیسے ہزاروں طلباءو طالبات کا وطیرہ اور طریقہ ہے جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ محض ڈگری کے حصول اور بالخصوص یونیورسٹی کی ”آزاد فضا
ں“ سے لطف اندوز ہونے کےلئے لیتے ہیں۔

طلباءوطالبات بڑی تعداد میں لائبریری آتے ہیں مگر صرف بیٹھنے اور گھنٹوں بحث و مباحثے کے لئے ، پڑھنے والے تو اب رہے نہیں“ اردو یونیورسٹی ‘عبدالحق کیمپس کے لائبریرین مظہر قیوم خاصے رنجیدہ دکھائی دے رہے تھے ، انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا:”دوسری بات یہ کہ ہماری لائبریری میں نئی اور تازہ شائع ہونیوالی کتابیں با لکل نہیں ہیں،جن کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے و ہی کتابیں ہمارے ہاں دستیاب نہیں ہوتی، طالب علم نوٹس پر انحصار کرتے ہیں اور گذشتہ چند برسوں سے انٹرنیٹ پر ہی زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں“اچھی کتابوں کا مطالعہ دل کو زندہ اور دماغ کو بیدار و بے داغ رکھتا ہے، تعلیمی اور معاشرتی نصاب سے کتابوں کا مطالعہ خارج ہوجائے تو دل مردہ ہو جاتا ہے اور دماغ لسانیت ، فرقہ واریت ، تشدد اور عدم برداشت جیسے ہزاروں داغ دھبوں کا مسکن بن جاتا ہے۔

جامعہ کراچی کے شعبہ مطالعہ پاکستان میں تحقیق سے وابستہ صائمہ حیات نے بتایا:”جو لوگ کتابوں کے رسیا ہوتے ہیں ان کا ذوق و شوق کبھی زوال پذیر نہیں ہوتا،اگر ایسا ہوتا تو اب تک کتابیں پڑھنے اور چھپنے کا سلسلہ بند ہو چکا ہوتا۔ جہاں تک کتابوں کے ذوق اور کتاب کلچر کے پروان چڑھنے کی بات ہے تو پاکستان جیسے ملک میں کتاب کلچر کیا پروان چڑھے گا ،جہاں گذشتہ تین عشروں سے کلاشنکوف کلچر پروان چڑھتا آرہا ہے۔ہمارے ہاں ڈرائینگ رومز اورگھروں کی سجاوٹ کےلئے بہت ساری چیزوں کا سہارا لیا جاتا ہے مگر کتابوں کےلئے کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔ہم لوگ کھانے پینے کی طرف زیادہ مائل ہیں، کھانے پینے کے مقامات اور کیفے بے شمار ہیں مگر کتاب کیفے کا کوئی وجود نہیں“۔

منفرد طرز احساس کے ترقی پسند شاعرو مضمون نگار توقیر چغتائی کا خیال ہے:”کتابوں کا ذوق و شوق یقیناً زوال پذیر ہے، اصل میں کتب بینی کے شعور اور ادراک کی دو جگہیں ہوتی ہیں، گھر اور اسکول یاکوئی بھی تعلیمی ادارہ۔ چونکہ کچھ عرصے سے گھریلو نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ہر شخص تنہا اور اکیلا ہے ا س لیے بچوں کی تربیت مناسب خطوط پر نہیں ہو رہی اور اسکولوں میں بھی وہ روایتی سلسلے ناپید ہو چکے ہیں۔ بحث و مباحثے اور بزم ادب کا انعقاد اور دیگر سرگرمیاں مفقود ہو چکی ہیں ، لائبریری کا تصور اچھے اچھے اسکولوں میں بھی نہیں ہے اور اگر لائبریری ہے تو کتب بینی کی ترغیب نہیں دی جاتی“گھٹا ٹوپ تاریکی اور اندھیرا نوید سحر کی علامت ہوتا ہے، سماج کےلئے درد دل رکھنے والے کبھی کبھی مایوس اور نا امید ہو جاتے ہیں مگر صدا ے غیب بھی تو وہی سنتے ہیں:

سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے۔۔۔!

اگر عام لوگوں اور عام کتابوں سے ہٹ کر ادب کی بات کی جائے تو پھر معاملہ ذرا الگ ہے“ ایڈورٹائزنگ و ٹیلی وژن پروڈکشن کے ماہر اور بچوں کے معروف ادیب سلیم مغل اپنے خیالات کے اظہار کے وقت خاصے پرامید نظر آرہے تھے: ” ادیب اور ادب ذوق کے حامل ہر حال میں ہر قسم کی اچھی کتابیں پڑھتے ہیں، مجموعی طور پر بات کریں تو کتابوں کے ذوق میں زوال پذیری، علم کے ذرائع میں اضافہ کی وجہ سے ہے، اس کے علاوہ خواندگی کی شرح میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا ،شاہکار کتابوں کے سستے ایڈیشن بھی اب دستیاب نہیں ہوتے۔ کتابوں کی پیشکش اچھی نہیں ہوتی،یہ بھی لوگوں کو راغب نہ کرنے کی ایک یقینی وجہ ہے، ایک اور بنیادی سبب علم کا Classifiedہونا بھی ہے“۔

بات کتابوں کے مطالعہ کی ہو ، شعر و ادب کے ذوق کی ہو ، سماجی علوم اور فلسفہ پر دسترس رکھنے کی ہو، شعبہ فنون میں نت نئی اختراعات اور سائنس کے میدان میں ایجادات کی ہو، ہر شعبے میں اور ہر ڈگر پر ایٹم بم رکھنے والے پاکستان کا معاشرہ زوال پذیر ہے۔

جہاں تک کتاب کلچر کے عدم وجود یا کتابوں کے ذوق و شوق کے زوال پذیر ہونے کا تعلق ہے اس نے پورے سماجی ڈھانچہ کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے، تنگ نظری، تشدد اور مذہبی اور فرقہ وارانہ انتہا پسندی کے ساتھ ساتھ بے تحاشا منفی جذبات اور رویئے فروغ پا چکے ہیں، ذہن تنگ اور تاریک ہو چکے ہیں اور تخلیقی نشو و نما کے دروازے بند ہوچکے ہیں‘۔ ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ کلرکوں کی فوج اور بیوروکریٹس کی اشرافیہ پیدا کرنے والے نام نہاد نظام تعلیم کی جگہ نئے خطوط پر ایک ایسا تعلیمی نظام وضع کیا جائے جو لکیر کے فقیر پیدا کرنے کے بجائے تخلیقی اور تحقیقی ذہن پیدا کرے ۔

٭غربت کے خاتمے کےلئے منصفانہ معاشی نظام کورواج دینا بھی وقت کی آواز اور حالات کا تقاضا ہے۔

٭ تمام پبلک پارکس اور دیگر عوامی مقامات پر حکومتی سرپرستی میں کتاب گھر قائم کئے جائیں۔

٭اس کے علاوہ اگر حکومت تمام تعلیمی اداروں، پبلک لائبریریوں اور چھوٹے بڑے شہر کی کسی ایک جامع مسجد میںنئی طبع ہونے والی ایسی کتابوں کی فراہمی کو یقینی بنائے جو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں اور جو ملکی و عالمی ادب اور سیاسی و سماجی اور سائنسی موضوعات پر مبنی ہو تو یقین مانئے کہ پھر کتاب کلچر کے راج و رواج اور کتابوں کے ذوق و شوق کو پروان چڑھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔